بوئنگ بی 52 سٹریٹو فورٹریس 1950 کی دہائی سے امریکی فوج کے زیر استعمال ہے۔ اسے ’دی بف‘ بھی کہا جاتا ہے جو جزوی طور پر ’بگ اَگلی فیٹ (یعنی بڑا، بھدا اور موٹا)‘ کا مخفف ہے۔ اس بمبار طیارے کی لمبائی 159 فٹ ہے اور اس کے پر 185 فٹ کے ہیں۔ بی 52 طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا سٹریٹجک بمبار ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران وہاں بمباری میں بھی شامل رہا۔ آٹھ انجن والے بی 52 کو بیسویں صدی کا سب سے زیادہ خطرناک بمبار طیارہ سمجھا جاتا ہے اور اسے امریکہ کی تین نسلوں نے اڑایا۔ اس جہاز نے ویتنام کی جنگ، عراق کی دو جنگوں اور افغانستان کے خلاف ایک جنگ میں بھی حصہ لیا۔ یہ طیارہ 650 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے (جبکہ مسافر طیارے عموماً 35 ہزار فٹ تک پرواز کرتے ہیں)۔ یہ 70 ہزار پاؤنڈ وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور سینکڑوں روایتی بموں کے ساتھ ساتھ 32 جوہری کروز میزائل لے کر اڑان بھر سکتا ہے۔ یہ فضا میں ہی ایندھن حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جس سے اس کی پرواز کرنے کی حد تقریباً لامحدود ہو جاتی ہے اور اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ یہ دنیا کے کسی بھی حصے میں کارروائی کے لیے جا سکتا ہے۔ سرد جنگ کے دوران اس نے امریکہ کے لیے ’جوہری چھتری‘ کا کردار ادا کیا تھا۔
30 سال تک بی 52 بمبار طیارہ اڑانے والے کرنل کیتھ شلٹز کا کہنا ہے کہ ’ہم جب اس جہاز پر ہتھیار لادتے ہیں تو دنیا اس کا نوٹس لیتی ہے۔ یہ جہاز میدان جنگ میں سب سے پہلے پہنچتا ہے۔ اس کا کام رکاوٹیں ہٹانا ہے تاکہ دیگر جہاز آ کر اپنا کام آسانی سے کر سکیں۔‘ شلٹز کا کہنا ہے ’یہ ایک انوکھا تجربہ ہے کہ ہزاروں میل دور جنگ میں حصہ لیا جائے۔ 25 ہزار فٹ کی بلندی پر آپ کو جنگ کی آوازیں نہیں آئیں۔ آپ کو دو سو پاؤنڈ بم کے پھٹنے کی آواز نہیں آتی۔‘ 1991 میں عراق کے خلاف آپریشن ڈیزرٹ سٹارم میں حصہ لینے والے کرنل وارن وارڈ کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ یہ ایک بد شکل جہاز ہے لیکن اپنا کام پورا کرتا ہے۔ دیگر جہاز بنائے گئے تاکہ بی 52 کی جگہ لی سکیں۔ بی ون بمبار آیا لیکن اس کی جگہ نہ لے سکا۔ پھر بی ٹو آیا اور وہ بھی کامیاب نہ ہوا۔‘ کرنل وارن وارڈ کا کہنا ہے ’یہ جہاز جتنا بڑا ہے اس لحاظ سے اس کے اندر عملے کے لیے خاص جگہ نہیں۔ یہ طیارہ لوگوں کے لیے نہیں بلکہ بمباری کے لیے تیار کیا گیا تھا۔‘ کرنل وارڈ نے ایک بار یہ جہاز 47.2 گھنٹے تک اڑایا تھا۔ ’ہم نے برکسڈیل سے مشرق کی جانب اڑان بھری اور دوبارہ برکسڈیل پر لینڈ کیا۔ یعنی تقریباً پوری دنیا کا سفر کیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس جہاز میں آرام کا سوچنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ اس میں صرف سیڑھی پر سیدھا کھڑا ہوا جا سکتا ہے۔ ’آپ اس میں داخل ہوتے ہیں اور آپ کو گرمی کا احساس ہوتا ہے اور آپ کے پسینے چھوٹتے ہیں لیکن جیسے آپ بلندی پر پہنچتے ہیں تو سخت سردی ہو جاتی ہے لیکن پسینے کی وجہ سے آپ کے کپڑے گیلے ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو مزید سردی لگتی ہے۔‘ بی 52 بمبار طیارے کی یہ صلاحیت کہ یہ دنیا بھر میں کارروائی کر سکے، جنگوں میں ایک نئی چیز ہے اور اس کا نفسیاتی اثر بہت زیادہ ہے۔ کرنل وارڈ کا کہنا ہے ’میں اپنے گھر میں سو کر اٹھتا، ٹیک آف کرتا، دنیا کے دوسرے حصے میں جنگ میں حصہ لے کر واپس اپنے گھر میں آ کر سو جاتا۔‘ عام طور پر اس طیارے میں پانچ افراد کا عملہ ہوتا ہے، جس میں طیارہ کمانڈر، پائلٹ، ریڈار نیویگیٹر، نیویگیٹر اور الیکٹرانک وارفیئر افسر شامل ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں جدت آتی گئی اسی طرح بی 52 میں بھی جدت لائی گئی۔ اس کے اوپر والے حصے میں عملے کا ایک اہلکار ریڈار جیمر آپریٹ کرتا ہے تاکہ طیارہ شکن میزائل اور جنگی طیاروں کو چکمہ دیا جا سکے۔
0 Comments