Tuesday, September 6, 2016

پانچ اور چھہ ستمبر 1965ء کی درمیانی شب قصور میں

ستمبر 1965ء میں پاک بھارت جنگ کے بادل اگرچہ ہمارے آسمان پر چھائے
ہوئے تھے لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ اس طرح اچانک جنگ سرپر آ جائے گی۔ ہم نے اگرچہ فوج جوائن نہیں کی تھی لیکن دل میں دور دور تک بھی یہ ارمان موجود نہ تھا کہ فوج میں شامل ہوا جائے۔ ہمارے نزدیک فوج کا تصور ایک دھندلا سا تصور تھا،۔۔۔ ایک الگ قبیلہ۔۔۔ ایک علیحدہ برادری۔۔۔ ایک انجانی سی تنظیم۔۔۔ اور ایک ان سوچا سا خیال۔۔۔ جب سات آٹھ برس پہلے ایوب خان کا پہلا مارشل لا لگا تھا تو کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ مارشل لا کیا ہوتا ہے۔ بس اتنا معلوم تھا کہ وردی پوش لوگوں کی خبریں اور تصویریں اخباروں میں چھپا کرتی تھیں۔ کوئی آفیسر اور کوئی جوان 6 فٹ سے کم قد آور نہ تھا اور سخت اور تنومند جسمانی خدوخال سے مزین ایک مجسمہ ہمارے سامنے آتا اور ہم اس سے محبت کرنے سے زیادہ اس سے خوفزدہ رہنے کا رجحان رکھتے تھے۔ ہمارے اکثر رشتہ دار پولیس میں تھے لیکن دیکھا گیا تھا کہ پولیس والے بھی فوجیوں سے خم کھاتے تھے۔ فوجیوں کے بارے میں ہماری معلومات بھی بس اتنی ہی تھیں جتنی عام سکول یا کالج کے طالب علموں کی تھیں۔ ہم نے اسلامی لشکروں اور سپہ سالاروں وغیرہ کے نام تو اکثر کتابوں میں پڑھے تھے لیکن انگریزفوجوں اور کمانڈر انچیفوں کے نام ابھی تک زبان پر نہیں چڑھے تھے۔ ہم شمشیر و سناں کو رائفل اور ریڈار سے زیادہ وقیع سمجھا کرتے تھے!

اِسی اثنا میں قصور میں بابا بلھے شاہ کا عرس آ گیا اور ہم عرس دیکھنے اپنے ننھال چلے گئے۔ اولیائے کرام کے عرسوں سے ویسے بھی ہماری عقیدت تھی کہ پاک پتن شریف کے دامن میں واقع ملکہ ہانس میں پیدا ہوئے اور پھر پاک پتن میں آبسے۔ وہیں سکول کی تعلیم پائی اور خاندان کے آدھے افرادلورالائی سے ،ہجرت کر کے آئے اور پھر پاک پتن ہی کے ہو رہے۔ اس زمانے میں پاک پتن کے ساتھ ’’شریف‘‘ کا لاحقہ بھی ضرور لگا کرتا تھا۔ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم کے دونوں کناروں پر جو بڑے بڑے بورڈ لگے ہوتے تھے ان پر انگریزی اور اردو میں’’ پاک پتن شریف‘‘ ہی لکھا ہوتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اگر پاک پتن کے ساتھ شریف نہ لگائیں تو یہ شہر نا مکمل، اجاڑ، سنسان اور نا شریف سا لگنے لگتا تھا۔ ذرا ہوش سنبھالی تو شریف کے لاحقے والے شہروں اور قصبوں کی قطاریں لگ گئیں۔ ملتان شریف، گولڑہ شریف، کھڑی شریف، چاچڑاں شریف اور اس طرح کئی شریفوں کے حصار میں گھرے ہم پاک پتن شریف پر بہت نازاں ہوا کرتے تھے۔ پھر جب یہ بھی سوچا کہ چونکہ اس جگہ برصغیر ہندو پاک کی ایک عظیم روحانی شخصیت محو خواب ہے اس لئے بابا فرید گنج شکر کی نسبت سے یہ شہر شریف کہلاتا ہے تو ہم نے اول اول اس پر یقین کر لیا۔ لیکن جب پہلی دفعہ لاہور آئے اور لاہور ریلوے اسٹیشن پر اترے تو صرف لاہور لکھا دیکھا اور سوچا کہ حضرت داتا گنج بخش کی نسبت سے لاہور کو بھی شریف کا لاحقہ عطا ہونا چاہئے تھا۔۔۔۔ ذہن کچھ الجھ سا گیا۔۔۔ کچھ یہی حال قصور کا بھی تھا۔ یہاں بابا بلھے شاہ اور شاہ کمال چشتی کے مزارات کی سارے برصغیر میں ایک خاص تقدیس تھی لیکن قصور ریلوے اسٹیشن پر ہم جب بھی اترتے تو ’’قصور جنکشن‘‘ لکھا دیکھتے اور چونکہ قصور شریف نہیں ہوتا تھا اس لئے ہم نے ایک اور مفروضہ ذہن میں پال لیا کہ شائد جنوبی پنجاب کے شہروں میں شریف کا اضافہ مناسب سمجھ جاتا ہوگا اور شمالی پنجاب میں نہیں۔ لیکن گولڑہ شریف اوردیول شریف کے مقامات تو جنوبی پنجاب میں نہیں تھے!۔۔۔بالآخر یہی سمجھا کہ لوگ عقیدتاً شریف کا لاحقہ لگا دیتے ہیں!۔۔۔ یہ کنفیوژن پوری طرح آج بھی ذہن سے محو نہیں ہو سکا۔

میرے ننھال تو قصور میں کوٹ مراد خان میں رہتے تھے لیکن قصور کے بارہ کوٹوں میں سب سے زیادہ مشہور کوٹ، کوٹ مراد خان کے علاوہ کوٹ عثمان خان سمجھا جاتا تھا جہاں میرے ایک کزن پولیس تھانے کے انچارج تھے۔ ہم اس روز ان کے ہاں گئے ہوئے تھے۔ پہلے بابا بلھے شاہ کے مزار پر حاضری دی اور پھر چند گز دور کوٹ عثمان خاں میں واقع ان کے سرکاری گھر میں چلے گئے۔۔۔ یہ 5 ستمبر 1965ء کا دن تھا!

اچانک خبر آئی کہ کوٹ مراد خان پر بھارتی فضائیہ نے حملہ کیا ہے اور وہاں ایک دھوبی گھاٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ ہم کوٹ عثمان خان سے نکلے اور دھوبی گھاٹ دیکھنے کے لئے تانگے میں سوار ہو گئے۔ ان دنوں تو لاہور میں بھی تانگے ہی چلا کرتے تھے۔ دھوبی گھاٹ میں جگہ جگہ گڑھے پڑ گئے تھے۔ انڈین بمبار نے اس جگہ شائد دو یا تین بم گرائے تھے۔۔۔ اس وقت تو معلوم نہ تھا کہ انڈین ایئر فورس کا ہدف قصور کا یہ دھوبی گھاٹ کیوں تھا لیکن بعد میں جب تاریخِ جنگ کی شدبد ہوئی تو معلوم ہوا کہ حملہ آور طیارے کا ہدف قصور ریلوے اسٹیشن تھا۔ اور دھوبی گھاٹ وہاں سے تقریباً دو تین کلومیٹر دور تھا! یعنی اس وقت بھی بھارتی فضائیہ کی نشانے بازی میں ’’مہارت‘‘ نمایاں اور واضح تھی! ستمبر کے مہینے میں اگرچہ دن رات برابر ہو جاتے ہیں اور موسم بھی زیادہ گرم سرد نہیں ہوتا اس لئے اس شب ہم تا دیر جاگتے اور گپیں ہانکتے رہے۔ معاً ریڈیو پر خبریں آنا شروع ہوئیں کہ انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے اور اس کی فوجیں قصور کی طرف بڑھی چلی آ رہی ہیں۔ میرے کزن نے گھر آ کر جب یہ خبرسنائی تو ہمیں خاصی تشویش ہوئی۔

قصور، دفاعی لحاظ سے ایک اہم سرحدی شہر تھا۔ ہم کئی بار قصور سے گنڈا سنگھ والا صبح پیدا چل کر جاتے اور شام کو واپس آ جاتے تھے۔ لیکن قصور پر انڈیا کی طرف سے حملے کرنے کے امکانات فوجی فائلوں میں ضرور ہوں گے لیکن پبلک کو کچھ آگاہی نہ تھی کہ شہر پر حملہ ہونے والا ہے۔ نہ ہی کسی نے بلیک آؤٹ کا ذکر کیا تھا۔ سارا شہر 5 ستمبر 1965ء کی شام کو حسبِ معمول روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ شہری ہوا بازی کی کوئی موثر تنظیم موجود نہ تھی۔ فضائی حملوں کے خلاف کوئی احتیاطی تدابیر نہیں اٹھائی گئی تھیں۔ کسی نے خندقیں کھودنے کامشورہ یا ہدائت نہیں دی تھی۔ (تاہم یہ سب کچھ 6 ستمبر کے بعد کیا گیا) ۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ 6 ستمبر کا بھارتی حملہ ایک ناگہانی حملہ تھا تو اس کی صداقت اور ہماری حماقت کا ثبوت یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں بھی وہ دفاعی احتیاطی تدابیر کام میں نہیں لائی گئی تھیں جو عام جنگی حالات سے پہلے لائی جاتی ہیں۔ میں عمداً عسکری احتیاطوں کا ذکر نہیں کروں گا۔ لیکن سول انتظامیہ کی غفلت اور نا اہلی کا اندازہ کیجئے کہ کسی کو بھی خیال نہ آیا کہ رن کچھ جھڑپ کے بعد (اپریل مئی 1965ء) بھی پاکستان اور بھارت میں کشیدگی برقرار ہے اور کسی وقت بھی عام جنگ کا نقارہ بج سکتا ہے۔ فوج نے جب آپریشن جبرالٹر شروع کیا تھا (یکم اگست 1965ء) تو تب بھی پاکستان میں ’’سب اچھا‘‘ کی گردان ہو رہی تھی۔ اور جب اگست کے آخری ایام میں دریائے توی عبور کر کے پاک فوج چھمب جوڑیاں کو روندتی ہوئی اکھنور کی طرف بڑھ رہی تھی تو پھر بھی حکومت نے مناسب نہ سمجھا کہ عوام کو مطلع کیا جائے کہ اگر اکھنور پر قبضہ ہو گیا تو پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے اور بھارت اس کے جواب میں کیا اقدامات کرے گا۔ اس دھمکی کے باوجود جو اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے انہی دنوں دی تھی کہ ہم اپنی مرضی کا محاذ کھولیں گے، اربابِ اقتدار نے عوام کو بے خبر ہی رکھا۔ اور بعد میں واویلا مچایا کہ بھارت نے دھوکے سے رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کر دیا ہے!

میڈیا میں یہ خبریں ضرور اچھالی جاتی رہیں کہ شاستری جی نے یہ دھمکی دی ہے لیکن قومی اور سرکاری سطح پر اس اجتماعی آگہی کا کوئی اہتمام نہ کیا گیا جوایسی دھمکی کے بعد ضروری ہوتی ہے۔ یہ تو جب جنگ شروع ہوئی اور پاک فوج کی جونیئر اور مڈل کلاس قیادت نے ہر سطح پر اپنے سے تین چار گنا طاقتور بھارتی فوج کو روک دیا تو پاکستانی عوام کو معلوم ہوا کہ خطرہ کتنا بڑا تھا ۔اور جب معلوم ہوا تو پھر پاکستان کا بچہ بچہ واقعی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گیا۔ اور تو اور مشرقی پاکستان بھی کہ جو اس جنگ کے چھ سال بعد بھارت کے ساتھ مل کر ہم سے علیٰحدہ ہو گیا، وہ بھی قومی جذبے سے سرشار معلوم ہوا۔ مجھے خبر نہیں یہ سرشاری واقعی اصلی تھی یا مغربی پاکستان کے عوام کی دیکھا دیکھی جھوٹ موٹ اختیار کی گئی تھی۔ ستمبر1965ء کی اس 17 روزہ جنگ میں پاکستان کی تینوں فورسز نے جو حیرت انگیز عسکری کارنامے انجام دیئے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی اقوام میں سراہے گئے اور جب سے اب تک پاک فوج کا ایک ایسا تشخص بیرونی دنیا میں مروج ہے کہ جس کی شہرت مدھم نہیں ہو سکی بلکہ اس میں مرورِ ایام سے اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ الحمد للہ!

میں قصور میں 5 اور 6 ستمبر 1965ء کی درمیانی شب کا ذکر کر رہا تھا!۔۔۔ اللہ اکبر!۔۔۔ آج اس رات کو گزرے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر گیا لیکن وہ سارا منظر آنکھوں میں اس طرح بسا ہواہے جیسے ابھی کل کی بات ہو!۔۔۔ اُس 6 ستمبر 1965ء کی صبح نا خوشگوار سی تھی۔ شہر میں بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور لوگ گھروں کو چھوڑ کر محفوظ تر قصبوں اور شہروں کا رخ کر رہے تھے۔ توپوں کی گھن گرج اور چمک سنائی اور دکھائی دے رہی تھی۔ پھر ریڈیو پر خبریں آئیں کہ صدر مملکت قوم سے خطاب کریں گے۔ ان کا خطاب اور اس میں ایوب خان کی زبان سے کلمہ طیبہ کی ادائیگی اتنی بروقت، اتنی حوصلہ افزا اور اتنی سکون بخش تھی کہ جو لوگ جوق در جوق لاری اڈوں کا رخ کر کے قصور سے نکل رہے تھے، وہ واپس آنے لگے۔ شہر کا نظم و نسق ایک لمحے کے لئے بھی متزلزل نہ ہوا۔ کھیم کرن۔ قصور سرحد میں صرف دو تین کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ جب اہل قصور کو اطلاع ملی کہ پاک فوج نے کھیم کرن پر قبضہ کرلیا ہے تو ہم جیسے خوش فہموں نے آس لگا لی کہ اب امرتسر اور فیروز پور کچھ زیادہ دور نہیں ہوں گے اوران دونوں بھارتی شہروں کا سقوط اب شائد ’’چند گھنٹوں‘‘کی مار ہو!

لیکن اصل میں قصور محاذ پر کیا ہوا؟۔۔۔ کیا واقعی پاکستانی فوج امرتسرکے قریب پہنچ گئی تھی اور اگر کرنل صاحب زاد کے ٹینک ولٹوہا جا سکتے تھے تو اس سے آگے کیوں نہ گئے؟۔۔۔ بھارتی آرمی چیف جنرل چودھری نے انڈین آرمی کی ویسٹرن کمانڈ کے کمانڈر، جنرل ہربخش سنگھ کو دریائے بیاس تک پیچھے ہٹنے کے احکام دیئے تو ہربخش سنگھ نے ان پر عمل کیوں نہ کیا ؟۔۔۔قصور کی طرف سے پاکستان آرمی کی جوابی یلغار (کاؤنٹر اوفینسو) کامیابی کے عین کنارے پر پہنچ کر ناکام کیوں ہوئی؟۔۔۔ ہمارے پیٹن ٹینک جو کسی بھی بھارتی ٹینک سے ہر طرح سے بہتر اور طاقتور تھے ان کو انڈیا کے4 ماؤنٹین ڈویژن نے کیسے روکا؟۔۔۔ ایک بھارتی مسلمان حوالدار عبدالحمید نے اصل اُتر کی اس ٹینک بیٹل میں کیا کردار ادا کیا اور اسے بھارت سرکار نے دلیری کا اعلیٰ ترین اعزاز جو ہمارے نشانِ حیدر کے برابر تھا، کیوں دیا؟۔۔۔ یہ سب تفصیلات حوصلہ شکن بھی ہیں اور حوصلہ افزا بھی۔ ۔۔۔ آدھے خالی گلا س کوبھرا بھی جاسکتا تھا اگر جنرل قسمت (General Luck) ہماری طرفداری کرتا!۔۔۔ یہ باتیں کالموں میں نہیں لکھی جا سکتیں۔ اصل حقیقت تک پہنچنے کے لئے قارئین کو کم از کم اس جنگ کی کوئی ایسی تاریخ پڑھنی چاہئے جو یکطرفہ اور جانبدارانہ نہ ہو۔ اور یہ تاریخ غیر ملکی مصنفین اور مورخین ہی لکھ سکتے ہیں۔ قارئین کو لائبریریوں یا انٹرنیٹ پر جا کر جنگ ستمبر 1965ء کی تواریخ کو براؤز) (Browse کرنا چاہئے اور اس حقیقت کا ادراک بھی کرنا چاہئے کہ پاکستان نے اگرچہ مختصر دورانیئے کی یہ جنگ جیتی نہیں تھی لیکن بھارت کو بھی جیتنے نہیں دی تھی!

لیفٹیننٹ کرنل (ر)غلام جیلانی خان